7 مارچ 2013 - 20:30

جامعہ مدرسین، شوریٰ عالی اور مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے خونی سانحات اور مظلوم شیعیان پاکستان کے بے رحمانہ قتل عام نے ہر اہل دل کو رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

ابنا: جامعہ مدرسین، شوریٰ عالی اور مرکز مدیریت حوزہ علمیہ قم نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے خونی سانحات اور مظلوم شیعیان پاکستان کے بے رحمانہ قتل عام نے ہر اہل دل کو رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سلفی اور وہابی گروہ ہر روز مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو خاک و خون میں غلطان کر رہے ہیں، ہر روز بہت سے بچے یتیم اور بہت سے والدین اپنے پیاروں کی موت پر داغدار ہو رہے ہیں، ان غم زدہ خانوادوں کے بین اور فریاد سن کر خود بخود آنکھوں سے اشک جاری ہو رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، جو سالہا سال سے دنیا میں انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔

اس بیانیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ فرقہ وارنہ اختلافات، اسلامی برادری کے حقوق سے غفلت اور ایک دوسرے کی تکفیر و تفسیق اور اس طرح کے دیگر عوامل دشمنان اسلام کی خواہش کے عین مطابق ہو رہے ہیں، اور یہ وہی چیز ہے جس کے لئے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ مراجع عظام تقلید اور علماء کرام کی اس بارے میں تشویش اور اس طرح کے واقعات کے بارے میں ان کا انتباہ اس موضوع کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے، اور سنجیدگی کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

اس بیانیہ کے اگلے حصے میں کہا گیا ہے کہ تمام حوزوی ادارہ جات پاکستان میں ہونے والے ان خونی حوادث کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور غمزدہ خانوادوں اور شہداء کے لواحقین کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے حادثات میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ بیانیہ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اسی مناسبت سے 9 مارچ ہفتہ کے روز حوزہ علمیہ قم کے تمام دورس تعطیل ہوں گے اور ان خونی حادثات کے خلاف احتجاج کے طور پر ٹھیک 10 بجے صبح مسجد اعظم میں عظیم اجتجاجی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ علماء کرام، اساتید محترم، فضلاء اور طلاب کو اس عظیم الشان احتجاجی اجتماع میں بھرپور شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
.................
242